نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نومبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غزالی و ابن رشد 4

📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( چوتھا حصہ ) خود بتایئے کہ کیا غزالی سائنس کے منکر ہیں؟ اسلام کی حقانیت دو اور دو، چار کی طرح واضح ہے کیونکہ اللہ کا وجود اس کائنات کا سب سے بدیہی سچ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت و راست گوئی کو آج کے غیر متعصب “ نان مسلم” بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسلام کے اثبات کےلئے کسی فلسفیانہ دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی فلسفیانہ دلیل کی بنا پر ایسے بدیہی سچ پر تنقید روا ہے۔ کجا یہ کہ اسلام پہ یہ تنقید خود کو مسلمان کہتے ہوئے یعنی اسلام کے نام پر ہی کی جائے۔ ان واضح تصریحات کے بعد کسی کےلئے یہ کہنے کی گنجائش نہ تھی کے غزالی سائنس کے منکر ہیں یا مذہب اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے خلاف ہیں۔ لیکن پروپیگنڈے کا تو کام ہی یہی ہے کہ حقائق کو تروڑا مروڑا جائے۔ بہتر ہو گا کہ یہاں پر ڈاکٹر سلیمان دنیا کی رائے بھی نقل کر دی جائے۔ ڈاکٹر سلیمان دنیا جامعۃ الازہر، مصر میں فلسفہ کے استاد اور المرکز الثقافی فی الاسلامی، نیویارک کے مدیر رہے۔ وہ امام غزالی کی “ تہافت الفلاسفۃ” اور ابن رشد کی “ تہافت التہافت” دونوں کے بیک وقت محقق ، حاشیہ نگا...

غزالی و ابن رشد 3

📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( تیسرا حصہ ) مزید سنئے، اسی طرح ان فلسفیوں نے یہ دعوی کیا کہ خدا ایک بے دست و پا قسم کی قوت (جسے وہ “ عقل” کہتے ہیں) کا نام ہے جس سے ایک اور قوت نے جنم لیا، اس سے پھر ایک اور قوت نے ، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دسویں قوت اور “ عقل” تک پہنچا۔ اس دسویں عقل اور قوت سے یہ سارا جہان نمودار ہوا۔ اثیر الدین ابہری کے الفاظ ہیں: “ الصادر من المبدء الاول انما ہوالواحدلا نہ بسیط و البسیط لا یصدر عنہ الالواحد کمامر” (ہدایۃ الحکمۃ۔ صفحہ ۷۵ ) یہ باتیں دلیل کی رو سے کتنی بے سروپا اور احمقانہ ہیں، اس بحث میں پڑے بغیر فی الحال صرف یہ دیکھئے کہ ایک آدمی یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے اسلام ہی کے نام پر کرتا ہے تو کیا اسے اس بات کا حق پہنچتا ہے اور اگر کوئی غزالی اس پہ تنقید کرے تو کیا یہ بلاجواز ہے؟ بات بڑی واضح ہے کہ ان ہفوات کو فلسفی بے شک اپنے “ علم الہیات” کا جزو بنائیں کیونکہ دین میں جبر نہیں، مگر انہیں اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے بھی کریں اور یوں مسلمانوں کےلئے تشویش، انتشار اور افتراق کا باعث بنیں۔ طرہ یہ کہ “ مسلم”...

غزالی و ابن رشد

📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( پہلا حصہ ) امام غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب “تہافت الفلاسفۃ “کی صورت میں آج تک موجود ہے جبکہ ابن رشد نے “تہافت التہافت” کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابن رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابن رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلووّں کو زیربحث لانا مقصود نہیں، نہ ہی یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کےلیے یہ سب پہلو قابل فہم ہوں گے۔ موجود دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو اپنا راہنما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار ، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اس موضع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچ...

طب یونانی

السَّلَامُ عَلَیکُم وَرَحْمَۃُ اللّہِ وَ بَرَکَاتہ کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے جب سے حضرت انسان کو خالق حقیقی نے عدم سے وجود بخشا اسکی ضروریات کو بھی رفتہ رفتہ پایہ تکمیل تک پہنچایا یا یوں کہہ لیں کہ جہاں کہیں اور جس طرح انسان کو ضروریات پیش آئیں وہیں اپنے اپنے وسائل عقل و دانش کا استعمال کرتے ہوئے اسکا حل تلاش کیا اور پھر قدرت نے بھی ساتھ دیا یوں مَنْ جَدَّ وَ جَدَ کا مصداق ٹھہرا انہیں ضروریات میں سے ایک ضرورت اسکے بیمار ہونے پر شفا ہے معلوم ہوا کہ علاج معالجہ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانیت کی عمر، رفتہ رفتہ دھیرے دھیرے انسان جہاں دیگر ضروریات کو پورا کرنے کیلیے نئے نئے انداز اور راستے تلاش کرتا رہا وہیں اپنی اس حصولِ شفا کیلیے بھی بہت سارے طرق اپنائے یوں بہت سارے طریقہ علاج وجود میں آئے پر شہرت چند ایک کی قسمت میں آئی جن میں سے ایک نام طب یونانی کا ملتا ہے جو آج تک زندہ ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک رہے گا اس میں کوئی شک نہیں کہ طب یونانی ہم مسلمانوں کا دیگر علوم و فنون کی طرح ایک قدیم سرمایہ، اور نعمت غیر مترقبہ ہے. اگرچہ اس وقت اسکا نام یونانی ہے پر حقیقت میں یہ طب...