نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غزالی و ابن رشد

📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( پہلا حصہ ) امام غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب “تہافت الفلاسفۃ “کی صورت میں آج تک موجود ہے جبکہ ابن رشد نے “تہافت التہافت” کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابن رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابن رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلووّں کو زیربحث لانا مقصود نہیں، نہ ہی یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کےلیے یہ سب پہلو قابل فہم ہوں گے۔ موجود دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو اپنا راہنما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار ، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اس موضع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچھ سنگین قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر عالم اسلام ‘ غزالی کے بجائے ابن رشد کو اپنا راہنما بناتا تو آج ذلت کے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ ان کا خیال ہے کہ ابن رشد سائنس اور اسلام کے درمیان ہم آہنگی کا قائل تھا، جبکہ غزالی سائنس کے مخالف ومنکر اور گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے درمیان آنے والا سائنسی و فکری انحطاط غزالی کی مخالفت کی ہی وجہ سے پیدا ہوا۔ زیر نظر مضمون میں دراصل انہی “مغالطوں” کاازالہ مقصود ہے۔ ان حضرات پر میری تنقید غزالی سے اندھی عقیدت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سوچی سمجھی رائے ہے جو غزالی اور ابن رشد کی تحریر کردہ کتب کو براہِ راست پڑھنے کے بعد میری اندر پیدا ہوئی ہے۔ 🔹 امام غزالی رحمتہ اللہ کا موقف: غزالی نے فلسفیوں پر کوئی ایسا جبر نہیں کیا کہ وہ فلسفہ نہ پڑھیں یا سائنسی تحقیقات کرنا چھوڑ دیں اور نہ ہی کبھی انہوں نے یہ کہا کہ اسلام اور سائنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ وجہ ہے کہ غزالی کے پیرو کاروں نے ایسے فلسفیوں اور سائنس دانوں پر کبھی تنقید نہیں کی جنہوں نے خود کو سائنسی تجربات اور ریاضی و طب جیسے مفید ، کارآمد اور اوریجنل سائنسی علوم تک محدود رکھا۔ چنانچہ ہمارے علم کے مطابق الخوارزمی الجبرا کے بانی، ابن الہیثم ماہر طب، حکیم یحیی/ بن ابی منصور، ابو ریحان البیرونی ماہر جیومیٹری، مسلم بن فراس پہلا ہوا باز ، عباس بن سعید جوہری اور سند بن علی آلات رصد بنانے کے ماہر، بنو موسیٰ بن شاکر گھڑی جیسے متحرک آلات بنانے کے ماہر، محمد بن زکریا رازی ماہر کیمیا، حکیم ا بو محمد العدلی القائنی، ابوسہل ویجن بن رستم کوہی اور حکیم ابوالوفاء بوزجانی ماہرین ریاضی جیسے لوگوں کو کبھی بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم حکماء اور سائنس دانوں میں اکثر لوگ ایسے ہی تھے جنہوں نے خالصتاً ریاضی و طب جیسے حقیقی اور تجرباتی علوم تک اپنے آپ کو محدود رکھا اور اس میدان میں خدمات انجام دیں، لیکن ان کی شہرت زیادہ نہیں۔

تبصرے