السَّلَامُ عَلَیکُم وَرَحْمَۃُ اللّہِ وَ بَرَکَاتہ
کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے
جب سے حضرت انسان کو خالق حقیقی نے عدم سے وجود بخشا اسکی ضروریات کو بھی رفتہ رفتہ پایہ تکمیل تک پہنچایا یا یوں کہہ لیں کہ جہاں کہیں اور جس طرح انسان کو ضروریات پیش آئیں وہیں اپنے اپنے وسائل عقل و دانش کا استعمال کرتے ہوئے اسکا حل تلاش کیا اور پھر قدرت نے بھی ساتھ دیا
یوں مَنْ جَدَّ وَ جَدَ کا مصداق ٹھہرا
انہیں ضروریات میں سے ایک ضرورت اسکے بیمار ہونے پر شفا ہے معلوم ہوا کہ علاج معالجہ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانیت کی عمر، رفتہ رفتہ دھیرے دھیرے انسان جہاں دیگر ضروریات کو پورا کرنے کیلیے نئے نئے انداز اور راستے تلاش کرتا رہا وہیں اپنی اس حصولِ شفا کیلیے بھی بہت سارے طرق اپنائے یوں بہت سارے طریقہ علاج وجود میں آئے پر شہرت چند ایک کی قسمت میں آئی جن میں سے ایک نام طب یونانی کا ملتا ہے جو آج تک زندہ ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک رہے گا
اس میں کوئی شک نہیں کہ طب یونانی ہم مسلمانوں کا دیگر علوم و فنون کی طرح ایک قدیم سرمایہ، اور نعمت غیر مترقبہ ہے.
اگرچہ اس وقت اسکا نام یونانی ہے پر حقیقت میں یہ طب اسلامی ہے، کئی سوسال قبل از مسیح جادوئی طور پر یا جادو گری کے نام سے موسوم ہونے والی یہ میڈیکل سائنس اپنے عروج پر پہنچنے کو ہی تھی کہ رطب یابس کا مجموعہ بن کر رہ گئی پھر جب یہ یونان سے عرب میں منتقل ہوئی اور مسلمانوں نے دیگر علوم کی طرح اسے بھی حاصل کیا اور اسے اپنی تحقیق و مشاہدات اور تجربات کے بعد خس و خاشاک سے پاک کیا یوں یہ طب اسلامی کہلائی پر عرف عام میں نام اسکا طب یونانی ہی رہا
مسلمانوں نے اسے کس طرح اپنایا؟
اور اس میں کیا کیا اجتہاد کیا؟
یہ حاملین فن خوب جانتے ہیں یہاں اسکی تفصیل مشکل ہے
مختصر یہ کہ یہ فن ہمارا سرمایہ ہے جسے ہم نے کھو دیا ہے یا کھوتے کھا کھا کر کھوتے جارہے ہیں.
آج کی یہ پہلی قسط انہیں مختصر سے الفاظ اور مندرجہ ذیل رباعی کے ساتھ مکمل کرنا چاہونگا قارئین نے اگر چاہا تو مزید کوشش کرونگا
سکون نواز فسانہ ہے طب یونانی
خود اپنے فن میں یگانہ ہے طب یونانی
َزمانے والوں نے دیکھا ہے آزما کے حفیظ
علاج درد زمانہ ہے طب یونانی
خادم فن
حکیم مولوی الیاس
18/9/21
📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( پہلا حصہ ) امام غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب “تہافت الفلاسفۃ “کی صورت میں آج تک موجود ہے جبکہ ابن رشد نے “تہافت التہافت” کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابن رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابن رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلووّں کو زیربحث لانا مقصود نہیں، نہ ہی یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کےلیے یہ سب پہلو قابل فہم ہوں گے۔ موجود دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو اپنا راہنما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار ، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اس موضع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں