📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕
( تیسرا حصہ )
مزید سنئے، اسی طرح ان فلسفیوں نے یہ دعوی کیا کہ خدا ایک بے دست و پا قسم کی قوت (جسے وہ “ عقل” کہتے ہیں) کا نام ہے جس سے ایک اور قوت نے جنم لیا، اس سے پھر ایک اور قوت نے ، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دسویں قوت اور “ عقل” تک پہنچا۔ اس دسویں عقل اور قوت سے یہ سارا جہان نمودار ہوا۔ اثیر الدین ابہری کے الفاظ ہیں: “ الصادر من المبدء الاول انما ہوالواحدلا نہ بسیط و البسیط لا یصدر عنہ الالواحد کمامر” (ہدایۃ الحکمۃ۔ صفحہ ۷۵ )
یہ باتیں دلیل کی رو سے کتنی بے سروپا اور احمقانہ ہیں، اس بحث میں پڑے بغیر فی الحال صرف یہ دیکھئے کہ ایک آدمی یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے اسلام ہی کے نام پر کرتا ہے تو کیا اسے اس بات کا حق پہنچتا ہے اور اگر کوئی غزالی اس پہ تنقید کرے تو کیا یہ بلاجواز ہے؟ بات بڑی واضح ہے کہ ان ہفوات کو فلسفی بے شک اپنے “ علم الہیات” کا جزو بنائیں کیونکہ دین میں جبر نہیں، مگر انہیں اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے بھی کریں اور یوں مسلمانوں کےلئے تشویش، انتشار اور افتراق کا باعث بنیں۔ طرہ یہ کہ “ مسلم” فلسفی اپنی الہیات کو ریاضی اور منطق کی طرح حتمی اور شبہات سے پاک بھی سمجھتے ہیں، مگر ان کا دعوی تھا کہ اس کے دلائل کو سمجھنا صرف فلسفیوں کےلئے ممکن ہے۔
غزالی یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان فلسفہ اور سائنس کے صرف کارآمد علوم کو اختیار کریں اور مذہب کے دائرہ سے ان کو الگ رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر اسلام کو بدلنے کی کوئی کوشش نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک حکمت و فلسفہ اور سائنس کے تمام اجزاء قابل اعتراض نہیں، بلکہ صرف وہ حصہ جو اسلام کی تعلیمات سے صریحاًً متصادم ہے۔ غزالی کے اپنے الفاظ ہیں: “ ہذا الفن و نظائرہ ہوالذی ینبغی ان یظھر فساد مذھبھم فیہ دون ماعداہ” ( تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ۸۱) یعنی “ فن الہیات اور اس کی امثال ہی فلسفہ کا وہ شعبہ ہیں جہاں ان کے مذہب کی تردید مقصود ہے، فلسفہ کے کسی اور فن یا شعبہ ( ریاضی، طب، منطق، سوشل سائنسز وغیرہ) پر تنقید کرنا ہمیں مطلوب نہیں ” ۔
اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ دیکھیں : “ علومھم اربعۃ اقسام: الریاضیات والالھیات والمنطقیات والطبیعیات، امالریاضیات……. فلا غرض لنا فی الاشتغال بایرادہ، واماللالھیات فاکثرعقائدھم فیھا عالی خلاف الحق والصواب نادر فیھا، واما المنطقیات……. فیخالفون اہل الحق فیھا بالاصطلاحات والایرادات دون المعانی والمقاصد اذ غرضھا تھذیب طرق الاستدلالات، وامالطبیعیات فالحق فیھا مشوب بالباطل” (مقاصد الفلاسفہ صفحہ۱۰،۱۱) یعنی “ فلسفیوں کے نظریاتی علوم کے چار بنیادی شعبے ہیں، ایک تو ریاضی ہے جس کو موضوع بحث بنانا مطلوب نہیں، دوسرا الہیات ہے، اس میں ان کے اکثر عقائد راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں، تیسرا منطق ہے جس میں اہل حق کا ان کے ساتھ اختلاف صرف اصطلاح میں ہے، اصل مفاہیم میں نہیں، چوتھا طبیعیات ہے جس میں الٹی سیدھی ، دونوں طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں۔”
تہافت الفلاسفۃ کی فہرست پر ایک نظر ڈال کر بھی یہ بات بآسانی معلوم کی جاسکتی ہے کہ غزالی کی گفتگو کا محور یا تو الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہیں، یا پھر وہ فلسفیوں کے اس زعم کو رد کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی الہیات ریاضی اور منطق کی طرح شک و شبہ سے پاک ہے۔ اپنی کتاب میں ان کے صرف یہی دو اہداف ہیں۔ دوسروں کی بنائی ہوئی فہرستوں کو بھی چھوڑ دیجئے، وہ خود “ تہافت الفلاسفۃ” کے مقدمہ میں ایک عنوان قائم کرتے ہیں: “ فھرست المسائل التی اظھرنا تناقض مذھبھم فیھا فی ھذاالکتاب” ( صفحہ ۸۷) یعنی “ ان مسائل کی فہرست جن کے اندر فلسفیوں کے مذہب کے ضعف کو ہم نے اس کتاب میں بیان کیا ہے۔” اس کے بعد انہوں نے خود بیس مسائل کی فہرست دی ہے۔ ان مسائل پر ایک سرسری نظر بھی ڈال لی جائے تو اندازاہ ہو جائے گا کہ ان کے اہداف صرف یہی دو ہیں۔ وہ الِہیات کے ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جو دین کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہیں یا پھر وہ فلسفیوں کے اس زعم کو رد کرتے ہیں کہ ان کی الٰہیات ریاضی اور منطق کی طرح شک و شبہ سے پاک ہے۔
( جاری ہے )
📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( پہلا حصہ ) امام غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب “تہافت الفلاسفۃ “کی صورت میں آج تک موجود ہے جبکہ ابن رشد نے “تہافت التہافت” کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابن رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابن رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلووّں کو زیربحث لانا مقصود نہیں، نہ ہی یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کےلیے یہ سب پہلو قابل فہم ہوں گے۔ موجود دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو اپنا راہنما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار ، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اس موضع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں