نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غزالی و ابن رشد 4

📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( چوتھا حصہ ) خود بتایئے کہ کیا غزالی سائنس کے منکر ہیں؟ اسلام کی حقانیت دو اور دو، چار کی طرح واضح ہے کیونکہ اللہ کا وجود اس کائنات کا سب سے بدیہی سچ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت و راست گوئی کو آج کے غیر متعصب “ نان مسلم” بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسلام کے اثبات کےلئے کسی فلسفیانہ دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی فلسفیانہ دلیل کی بنا پر ایسے بدیہی سچ پر تنقید روا ہے۔ کجا یہ کہ اسلام پہ یہ تنقید خود کو مسلمان کہتے ہوئے یعنی اسلام کے نام پر ہی کی جائے۔ ان واضح تصریحات کے بعد کسی کےلئے یہ کہنے کی گنجائش نہ تھی کے غزالی سائنس کے منکر ہیں یا مذہب اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے خلاف ہیں۔ لیکن پروپیگنڈے کا تو کام ہی یہی ہے کہ حقائق کو تروڑا مروڑا جائے۔ بہتر ہو گا کہ یہاں پر ڈاکٹر سلیمان دنیا کی رائے بھی نقل کر دی جائے۔ ڈاکٹر سلیمان دنیا جامعۃ الازہر، مصر میں فلسفہ کے استاد اور المرکز الثقافی فی الاسلامی، نیویارک کے مدیر رہے۔ وہ امام غزالی کی “ تہافت الفلاسفۃ” اور ابن رشد کی “ تہافت التہافت” دونوں کے بیک وقت محقق ، حاشیہ نگار اور مقدمہ نگار ہیں۔ انہوں نے دونوں کتابوں کے حرف حرف کو پڑھا، سمجھا، ان پہ اپنے وقیع علمی حواشی تحریر کیے، موقع بموقع غزالی اور ابن رشد دونوں پر بے لاگ نقد کیا، دونوں کتابوں کے شروع میں گراں قدر تحقیقی مقدمے تحریر کیے اور مختلف قلمی نسخوں کو سامنے رکھتے ہوئے الفاظ کے معمولی اختلاف تک کو بھی جا بجا واضح کیا۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ غزالی اور ابن رشد کے قضیہ کے بارے میں ان کی رائے کسی بھی دوسرے آدمی کے مقابلہ میں کس پائے کی ہو گی؟ امام غزالی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: “قدیم اور جدید، دونوں ادوار میں لوگوں کے ایک گروہ کا یہ خیال رہا ہے کہ غزالی پوری عقلی و فکری روایت پر حملہ آور ہیں، فکری کاوشوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان کے خلاف برسرپیکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پوری روایت کا خاتمہ ہو۔ اسی بناء پر ان لوگوں نے غزالی کے بارے میں وہ سب کہا جو ان کے منہ میں آیا۔ ان لوگوں کے مطابق غزالی نے پورے فلسفہ اور سائنس کی ایسی بیخ کنی کی ہے کہ اس کے بعد وہ مشرق میں پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا۔تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں جبکہ کتابیں آسانی سے دستیا ب ہیں اور غزالی کی کتا بوں سے مراجعت کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا ، اب بھی خود کو علم سے منسوب کرنے والے اور اہل علم میں خود کو صدر نشینی کا اہل سمجھنے والےلوگ اس حقیقت سے جاہل ہیں” (تہافت التہافت بہ تحقیق سلیمان دنیا۔ صفحہ ۱۶) ڈاکٹر سلیمان دنیا کا تعجب بجا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ روشن خیال اپنی روشن خیالی کو مصدقہ کروانے کے چکر میں ہر وہ کام کرتے ہیں، جس میں انہیں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ غزالی کو پڑھے بغیر، غزالی کی طرف غلط موقف منسوب کرنا اور پھر ان پر نقد کرنا بھی شاید اسی غرض سے ہے۔ خالص عربی زبان میں بپا ہونے والے اس قضیہ کے بارے میں بھی ان حضرات کا خیال ہے کہ عربی متون کے حوالے ثانوی درجہ رکھتے ہیں اور انگریزی مقالات کے حوالے ان سے زیادہ معتبر ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ فلسفیوں کے علم الہیات پر تنقید کرنے میں غزالی تنہا نہیں، فخر الدین رازی اور ابنِ تیمیہ جیسے کئی علماء نے بھی ان پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ سب حضرات فقہی مسائل میں مختلف الخیال ہونے کے باوجود فلسفیوں پر تنقید کرنے میں یک زبان ہیں۔ اور تو اور، خود “سلسلہ فلسفیہ” میں ایک بڑا نام ابوالبرکات بغدادی کا آتا ہے۔ یہ مذہباً یہودی تھا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کیا۔ اس نے بھی خود اپنی کتاب “المعتبر” میں فلسفیوں کی الہیات پر شدید اور بھرپور تنقید کی ہے۔ بعض حضرات کے بقول، بعد میں رازی اور ابنِ تیمیہ کی فلسفہ پر تنقید اکثر و بیشتر اسی “المعتبر” سے ماخوذ ہوتی ہے جو سلسلہ فلسفیہ کے ہی ایک عظیم رکن کی تصنیف ہے۔ (حکمائے اسلام۔ جلد۱، صفحہ ۴۵۰، ۴۵۱ ) ( جاری ہے )

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غزالی و ابن رشد

📕 امام غزالی اور ابن رشد کا قضیہ 📕 ( پہلا حصہ ) امام غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب “تہافت الفلاسفۃ “کی صورت میں آج تک موجود ہے جبکہ ابن رشد نے “تہافت التہافت” کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابن رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابن رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلووّں کو زیربحث لانا مقصود نہیں، نہ ہی یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کےلیے یہ سب پہلو قابل فہم ہوں گے۔ موجود دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو اپنا راہنما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار ، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اس موضع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچ...